راشد حسین اور اس کے خاندان کی حقیقت: دہشتگردی کا پروپیگنڈہ اور جھوٹ

فی الوقت بلوچستان میں دہشتگرد تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے ایک اہم کمانڈر، راشد حسین کے خاندان کی خواتین اپنے بھائی کو مظلوم ثابت کرنے کے لیے “مسنگ پرسن” کا کارڈ کھیل رہی ہیں۔ ان خواتین کا مقصد عالمی سطح پر راشد حسین کو بے گناہ اور مظلوم دکھانا ہے، لیکن حقیقت کچھ اور ہے۔ یہ خواتین نہ صرف اپنے بھائی کی دہشتگرد سرگرمیوں کی حمایت کر رہی ہیں بلکہ اس کے جرم پر پردہ ڈالنے کی کوشش بھی کر رہی ہیں۔

راشد حسین دہشتگرد تنظیم بی ایل اے کا ایک اہم کمانڈر تھا جس نے چینی قونصل خانہ کراچی پر دہشتگردانہ حملہ کیا۔ اس حملے میں راشد حسین نے نہ صرف مالی معاونت فراہم کی بلکہ دھماکے کی جگہ پر موجود بھی رہا۔ جب دھماکہ ناکام ہوا، تو وہ فوراً وہاں سے فرار ہو گیا۔ اس کے اس عمل نے نہ صرف پاکستان بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی دہشتگردی کے خلاف لڑنے کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ تاہم، اس کی کارروائی ناکام ہونے کے بعد اس نے خود کو چھپایا اور اپنے جرائم پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی۔

راشد حسین کے خاندان کی خواتین، جن میں اس کی بہن فریدہ بلوچ سرفہرست ہے، مسلسل بی ایل اے کے کیمپوں کا دورہ کرتی رہی ہیں اور تنظیم کی حمایت میں ملوث رہی ہیں۔ فریدہ بلوچ کی طرف سے اپنے بھائی کے اقدامات کی تائید اور اس کی حمایت میں بیان بازی کی جاتی رہی ہے۔ اس کے علاوہ، اس کی ایک اور ٹویٹ میں یہ بھی تسلیم کیا گیا تھا کہ اس کا ایک اور بھائی ضیا بھی بی ایل اے کا حصہ تھا اور وہ پہاڑوں میں مارا گیا۔ اس کا یہ اقرار بھی اس کی دہشتگرد تنظیم کے ساتھ گہری وابستگی کو ظاہر کرتا ہے۔

یہ تمام حقیقتیں اس پروپیگنڈے کے برخلاف ہیں جو راشد حسین اور اس کے خاندان کی خواتین پھیلا رہی ہیں۔ وہ ایک ایسے شخص کو مظلوم ثابت کرنے کی کوشش کر رہی ہیں جس نے نہ صرف پاکستان بلکہ بین الاقوامی سطح پر دہشتگردانہ کارروائیاں کیں اور بے گناہ افراد کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالا۔ اس قسم کے جھوٹے دعوے حقیقت کو مسخ کرنے اور دہشتگردوں کی حمایت میں کام کرنے کی کوشش ہیں۔

ہمیں اس بات کا ادراک کرنا ہوگا کہ دہشتگردوں کی حمایت کرنے والے افراد کو مظلوم نہیں، بلکہ ان کے جرائم کا جوابدہ بنایا جانا چاہیے۔ راشد حسین کا خاندان دہشتگردوں کی حمایت میں ملوث رہا ہے، اور ان کی کوششوں کو حقیقت کی روشنی میں سامنے لانا ضروری ہے تاکہ عالمی سطح پر ان کی حقیقت کو بے نقاب کیا جا سکے۔


 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *