کوئٹہ میں وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت منعقدہ اجلاس میں گیارہویں قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ کی تیاری کے حوالے سے اہم امور پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں صوبائی وزیر خزانہ میر شعیب نوشیروانی نے صوبے کی موجودہ معاشی صورتحال، مالی ضروریات اور آئندہ ایوارڈ کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی بریفنگ دی۔ وزیر اعلیٰ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ پر ایک ہمہ گیر اور متفقہ مؤقف سامنے لانے کے لیے تمام سیاسی جماعتوں سے رائے لی جائے گی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مشاورت کا دائرہ صرف پارلیمانی جماعتوں تک محدود نہیں رہے گا بلکہ ان جماعتوں کو بھی شامل کیا جائے گا جن کی پارلیمنٹ میں نمائندگی موجود نہیں، تاکہ ہر طبقے کی رائے سامنے آسکے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ معاشی اور اقتصادی ماہرین کے ساتھ ساتھ مختلف شعبوں کے ایکسپرٹس کی تجاویز بھی شامل کی جائیں گی تاکہ بلوچستان کے عوامی مفادات کو بھرپور انداز میں اجاگر کیا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ گیارہواں این ایف سی ایوارڈ صوبوں اور وفاق کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے کا ایک اہم موقع ہے اور بلوچستان کے عوام کی توقعات اس میں نمایاں طور پر شامل ہونی چاہئیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صوبے کی پسماندگی کے خاتمے اور ترقی و خوشحالی کو یقینی بنانے کے لیے وسائل کی منصفانہ تقسیم اور شفافیت کو بنیادی اصول بنایا جائے گا۔
وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ مشاورت کا مقصد بلوچستان کا مضبوط اور متفقہ مؤقف تیار کرنا ہے تاکہ ہر سطح پر صوبے کے عوامی مفادات کا تحفظ ممکن بنایا جا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہماری اصل کامیابی ایک مستحکم وفاق میں ہے اور این ایف سی ایوارڈ کو قومی یکجہتی اور باہمی اعتماد کو فروغ دینے کا ذریعہ بنایا جانا چاہیے۔













Leave a Reply