گوادر کے پانی اور بجلی کے مسائل کے مستقل حل کے لیے اقدامات تیز

اسلام آباد میں وزیر اعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس ہوا جس میں گوادر میں پانی کی کمی اور بجلی کے مسائل پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس میں وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی اور بتایا کہ ایران سے بجلی کی بندش اور برقی عدم استحکام کی وجہ سے گوادر کا ڈی سیلینیشن پلانٹ مستقل طور پر چلانے میں دشواریاں پیش آ رہی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ خضدار سے گوادر ساوتھ ٹو نارتھ قومی گریڈ لائن کی ناقص منصوبہ بندی کے باعث وولٹیج میں اتار چڑھاؤ رہتا ہے جو پانی کی فراہمی پر براہِ راست اثر انداز ہوتا ہے۔ صوبائی حکومت اپنے وسائل سے اس مسئلے کا پائیدار حل تلاش کر رہی ہے مگر اس گریڈ لائن کا ازسرنو جائزہ اور ضروری اصلاحات ناگزیر ہیں۔

وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ پاور ہاؤس اور جنریٹرز کے ذریعے ڈی سیلینیشن پلانٹ کو چلانے کے لیے ہنگامی اقدامات ضروری ہیں تاکہ عوام کو پانی کی فراہمی میں رکاوٹ نہ ہو۔ وزیر اعظم نے گوادر کے پانی اور بجلی کے مسائل کے مستقل حل کی ہدایت کرتے ہوئے حکم دیا کہ وفاقی وزیر پاور ڈویژن، منصوبہ بندی کمیشن اور متعلقہ سیکرٹریز 15 اگست کو گوادر کا دورہ کر کے زمینی صورتحال کا جائزہ لیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان کی مشاورت سے گوادر کے شہریوں کو بلا تعطل پانی فراہم کرنے کو یقینی بنایا جائے۔ اجلاس میں وفاقی اور صوبائی حکام نے بنیادی سہولیات کی بہتری کے لیے تجاویز پیش کیں، جن میں چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان، ایڈیشنل چیف سیکرٹری ترقیات و منصوبہ بندی زاہد سلیم، پرنسپل سیکرٹری بابر خان، سیکرٹری پی ایچ ای محمد ہاشم غلزئی، سیکرٹری خزانہ عمران زرکون، ترجمان بلوچستان حکومت شاہد رند، چیئرمین گوادر پورٹ اتھارٹی نور الحق بلوچ اور چیئرمین گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی معین الرحمٰن شامل تھے۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *