کوئٹہ میں دہشتگردوں کا سہولت کار گرفتار، شہر بڑے سانحے سے محفوظ

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق 11 اگست کو کوئٹہ میں ایک خودکش بمبار کو گرفتار کیا گیا تھا۔ ابتدائی تحقیقات اور گرفتار ملزم کی نشاندہی پر 12 اگست کو بیوٹمز یونیورسٹی کے ایک استاد، ڈاکٹر عثمان قاضی، کو بھی حراست میں لیا گیا۔ دورانِ تفتیش ڈاکٹر عثمان قاضی نے انکشاف کیا کہ وہ 9 نومبر 2024 کو کوئٹہ ریلوے اسٹیشن پر ہونے والے خودکش حملے میں سہولت کار تھا اور حملہ آور کو ہدف تک پہنچانے میں مدد فراہم کی تھی۔

تحقیقات کے دوران یہ بھی معلوم ہوا کہ شہر میں مزید دو خودکش بمبار موجود تھے، جو یومِ آزادی کی تقریبات کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ تاہم فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ان دونوں دہشتگردوں کو بھی گرفتار کر لیا اور ایک بڑے سانحے سے شہر کو محفوظ بنا لیا۔

ذرائع کے مطابق گرفتار ملزمان سے مزید تفتیش جاری ہے اور سیکیورٹی ادارے اس نیٹ ورک کے دیگر افراد تک پہنچنے کے لیے کارروائی کر رہے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ کامیاب آپریشن نہ صرف دہشتگردی کے ایک بڑے منصوبے کو ناکام بنانے میں اہم پیشرفت ہے بلکہ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے کسی بھی سازش کو ناکام بنانے کے لیے پوری طرح مستعد ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *