پاک چین دوستی اسپتال گوادر: خطے کے عوام کے لیے جدید طبی سہولتوں کا مرکز

ڈائریکٹر جنرل گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی معین الرحمن خان نے پاک چائنا فرینڈشپ اسپتال کا دورہ کیا اور اس منصوبے کو سی پیک کا ایک شاندار تحفہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اسپتال نہ صرف گوادر بلکہ کیچ، پنجگور اور سرحدی علاقوں کے عوام کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں، جہاں جدید اور معیاری علاج کی سہولتیں بالکل مفت فراہم کی جا رہی ہیں۔

ہیڈ آف کیمپس ڈاکٹر عفان فائق زادہ نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اسپتال 150 بستروں پر مشتمل ہے اور فی الحال یہاں فیملی میڈیسن، انٹرنل میڈیسن، ایمرجنسی میڈیسن، پیڈیاٹرک، گائنی و آبسٹریٹکس، جنرل سرجری، آرتھوپیڈک، ڈینٹسٹری، ڈرماٹالوجی، ریڈیولوجی اور یورولوجی کے شعبے فعال ہیں۔ آئندہ مرحلے میں گیسٹروانٹرولوجی، کارڈیالوجی، میموگرافی اور آفتھالمولوجی جیسے اہم شعبے بھی شروع کیے جائیں گے، جب کہ بلڈ بینک اور نیوٹریشن پروگرام کی سہولتیں بھی دستیاب ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال اسپتال میں او پی ڈی اور ایمرجنسی کے ذریعے 2 لاکھ 90 ہزار مریضوں کا علاج کیا گیا۔ ان ڈور مریضوں کی تعداد 8287 رہی، جب کہ 1100 آپریشن اور 2270 زچہ و بچہ کیسز بھی مکمل کیے گئے۔ اس کے ساتھ 76 ہزار 200 لیبارٹری ٹیسٹ اور 23 ہزار 780 مریضوں کے ایکس رے، الٹراساؤنڈ اور سی ٹی اسکین کیے گئے۔ اسپتال میں روزانہ اوسطاً ایک ہزار سے بارہ سو تک مریضوں کو خدمات فراہم کی جا رہی ہیں، جنہیں علاج کے ساتھ ساتھ مفت ادویات، ٹیسٹ اور داخل مریضوں کو کھانے کی سہولت بھی دی جاتی ہے۔

یہ اسپتال جدید طرز پر پیپر لیس ماحول میں چلایا جا رہا ہے جہاں مریضوں کا ریکارڈ، ادویات اور ٹیسٹ آن لائن محفوظ کیے جاتے ہیں۔ ڈائریکٹر جنرل نے اس موقع پر کہا کہ ماضی میں معمولی علاج کے لیے بھی لوگوں کو کراچی جانا پڑتا تھا جو ہر شخص کے بس کی بات نہیں تھی، مگر آج یہ سہولت انہی کے علاقے میں موجود ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ مستقبل میں اسپتال کو 300 بستروں تک وسعت دینے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے اور ایک میڈیکل کالج بھی قائم کیا جائے گا جو سی پیک فیز ٹو کا حصہ ہوگا۔ ساتھ ہی میڈیکل ٹیکنالوجیز اسکول کے قیام پر بھی کام ہو رہا ہے تاکہ مقامی سطح پر تربیت یافتہ طبی عملہ تیار کیا جا سکے۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *