پاکستان میں دہشتگردی کا جو عفریت برسوں سے پنجے گاڑے بیٹھا ہے، وہ کسی ایک قوم یا علاقے کا دشمن نہیں بلکہ پورے ملک کے امن، ترقی اور اتحاد کے خلاف کھلی سازش ہے۔ ان دہشتگرد تنظیموں کا کوئی مذہب ہے نہ کوئی اخلاقی حدود، نہ ان کے سامنے قوم کی پہچان کی کوئی اہمیت ہے۔ ان کے نشانے پر وہ سب لوگ ہیں جو پاکستان سے جڑے ہیں — بلوچ، پشتون، پنجابی، سندھی، سرائیکی، مہاجر — سبھی ان کے ظلم کا شکار ہیں۔
کبھی بلوچوں کو “ڈیتھ اسکواڈ” کا جھوٹا الزام دے کر نشانہ بنایا جاتا ہے، تو کبھی پشتون نوجوانوں کو صرف اس وجہ سے اغوا کر لیا جاتا ہے کہ وہ ریاستی اداروں میں کام کرتے ہیں۔ ان کی کمائی، ان کے خواب، ان کا روزگار — سب کچھ جلا کر خاک کیا جاتا ہے۔ پنجابیوں کو شناختی کارڈ دیکھ کر بسوں سے اتار کر قتل کر دیا جاتا ہے۔ سندھ اور جنوبی پنجاب کے عوام بھی ان درندوں کی سفاکی سے محفوظ نہیں رہے۔ اور اب، مہاجر برادری بھی ان کے خون آشام عزائم کا نشانہ بننے لگی ہے۔
یہ بات انتہائی افسوسناک ہے کہ کچھ قوم پرست رہنما، جو ماضی میں قوموں کے حقوق کی آواز بلند کرتے تھے، آج ان مظالم پر خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔ اختر مینگل ہوں یا محمود خان اچکزئی، سب کی خاموشی سوالیہ نشان ہے۔ یہی حال دیگر قوموں کی قیادت کا ہے، جو صرف یہ کہہ کر خود کو بری الذمہ سمجھتی ہے کہ بلوچستان کے حالات خراب ہیں، وہاں لوگوں کو حقوق نہیں مل رہے، مسنگ پرسنز کا مسئلہ ہے، کچھ خواتین سڑکوں پر احتجاج کر رہی ہیں۔ مگر یہ کوئی نہیں پوچھتا کہ حالات کو بگاڑنے والا کون ہے؟ یہ مسنگ پرسنز کی آڑ میں اصل میں کون چھپایا جا رہا ہے؟
اصل چہرہ وہ دہشتگرد تنظیمیں ہیں، جو نہ صرف ہمارے سپاہیوں اور شہریوں کو قتل کر رہی ہیں، بلکہ ان کے سہولت کار وہ چہرے ہیں جو مظلومیت کا لبادہ اوڑھے دنیا کو گمراہ کر رہے ہیں۔ کچھ مخصوص افراد نے مظلوم اور ظالم کے فرق کو اس حد تک مٹا دیا ہے کہ قاتلوں کو ہی معصوم بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ یہ ریاست دشمنی ہے، یہ انسانیت دشمنی ہے۔
اب سوال یہ ہے: کیا ہم اس سب پر ہمیشہ کی طرح خاموش رہیں گے؟ کیا ہر بار لاشیں گرنے کے بعد بس ایک مذمتی بیان کافی ہے؟ کیا ہم نے دہشتگردی کو اپنی زندگی کا معمول مان لیا ہے؟
وقت آ گیا ہے کہ ہم خوابِ غفلت سے جاگیں۔ یہ مسئلہ صرف بلوچستان کا نہیں رہا۔ جب ہر صوبے کا بیٹا قتل ہو رہا ہو، جب ہر نسل کو نشانہ بنایا جا رہا ہو، تو یہ پورے پاکستان کا مسئلہ بن چکا ہے۔ اب ہمیں قوم، نسل، زبان اور سیاست سے بالاتر ہو کر ان درندوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف متحد ہونا ہوگا۔
یہ جنگ صرف ریاست کی نہیں، ہم سب کی ہے — پاکستان کی بقا کی جنگ۔













Leave a Reply