وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے تعمیر نو پبلک کالج کوئٹہ میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے نوجوانوں کو سوچے سمجھے پروپیگنڈے کے ذریعے ریاست مخالف جذبات کی طرف مائل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے لیکن اس کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اساتذہ کو چاہیے کہ وہ نوجوانوں کو حب الوطنی کے جذبے سے سرشار کریں کیونکہ اس ادارے سے اسلام اور پاکستانیت کی خوشبو آتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اساتذہ اللہ کے منتخب لوگ ہیں جو نئی نسل کی کردار سازی کرتے ہیں۔ جس نے ملک سے وفاداری کی اللہ نے اسے عزت دی اور بے وفائی کرنے والے ہمیشہ رسوا ہوئے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان میں سوشل میڈیا زیادہ تر منفی مقاصد کے لیے استعمال ہو رہا ہے اس لیے نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ منفی پروپیگنڈے سے متاثر ہونے کے بجائے علم اور تحقیق پر توجہ دیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ تشدد کے ذریعے بلوچستان کو الگ کرنے کا خواب محض خام خیالی ہے اور نوجوانوں کو بے مقصد جنگ کی طرف دھکیلنے کی کوشش ناکام ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نوجوانوں کو دنیا کے بہترین اداروں میں اسکالرشپس فراہم کر رہی ہے تاکہ وہ مثبت سمت میں آگے بڑھ سکیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ریاست مخالف عناصر نوجوانوں کو خودکش حملوں کی طرف مائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن حکومت اس عمل کو کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دے گی۔ غیر متوازن ترقی کو ریاست دشمنی کا جواز نہیں بنایا جا سکتا۔ حکومت پر تنقید کی جا سکتی ہے لیکن ریاست سے غداری کا کوئی جواز نہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئین پاکستان کا آرٹیکل 5 ریاست سے غیر مشروط وفاداری لازم قرار دیتا ہے۔
وزیراعلیٰ نے بتایا کہ صوبے میں بارہ ہزار نوکریاں مکمل شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر دی گئی ہیں۔ انہوں نے پروفیسر فضل باری شہید بی ایس بلاک کے لیے فنڈز کی فراہمی کو یقینی بنانے اور علامہ اقبال انٹرنیشنل کانفرنس کے انعقاد کی تجویز کی بھرپور حمایت کا بھی اعلان کیا۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ پاکستان سے محبت کو نوجوانوں کے دلوں میں راسخ کرنا ہی اصل کامیابی ہے۔













Leave a Reply