کوئٹہ میں منعقدہ قومی استحکام پاکستان کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان پاکستان کا دل ہے اور اس کے بغیر ملک کا وجود ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قیام پاکستان میں صوبے کے عوام اور قبائلی عمائدین نے قائداعظم محمد علی جناحؒ کی قیادت میں جرگہ بلا کر پاکستان سے الحاق کا تاریخی فیصلہ کیا، جو تاریخ میں سنہری حروف سے درج رہے گا۔ وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ حالیہ برسوں میں بعض عناصر نے نام نہاد قوم پرستی کے نام پر صوبے میں پاکستان مخالف بیانیہ پھیلانے کی کوشش کی، جس کا مقصد بلوچ عوام کو نقصان دہ اور بے فائدہ تصادم کی طرف دھکیلنا تھا۔ ان کے مطابق، پسماندگی یا مسائل کسی کو ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے کا جواز نہیں دیتی، اور آئین پاکستان کا آرٹیکل 5 ہر شہری پر ریاست سے غیر مشروط وفاداری لازم قرار دیتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو لسانی یا مسلکی بنیادوں پر تقسیم کرنے کی کوششیں ناکام ہوئیں، اور بلوچستان میں تمام مذاہب اور مکاتبِ فکر کے لوگ مثالی ہم آہنگی کے ساتھ رہتے ہیں۔ انہوں نے سینٹر دھنیش کمار کی سینیٹ میں پاکستان کے حق میں کی گئی تقریر کو اس اتحاد کی مثال قرار دیا۔ وزیراعلیٰ نے دشمن کی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ کبھی نسلی اور کبھی لسانی بنیادوں پر عوام کو تقسیم کرنے کی کوشش کرتا ہے، لیکن حقیقی بلوچ روایت معصوم لوگوں کے قتل کو قبائلی یا حقوق کی جدوجہد کا حصہ نہیں مانتی۔
انہوں نے سوشل میڈیا کو موجودہ دور کا سب سے بڑا فتنہ قرار دیا اور کہا کہ جھوٹی اور اشتعال انگیز معلومات کے پھیلاؤ نے معاشرتی بگاڑ کو بڑھایا ہے۔ ان کے مطابق، حال ہی میں بلوچستان میں ایک ماہ طویل پاکستان فٹبال ٹورنامنٹ کامیابی سے منعقد ہوا، مگر اس کامیابی کی بجائے ایک چھوٹا متنازع کلپ وائرل کر دیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے بتایا کہ حکومت نوجوانوں کو ریاست کے قریب لانے کے لیے جرگے اور کھلی کچہریاں منعقد کر رہی ہے تاکہ زمینی حقائق سے آگاہی دی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج کا حق سب کو ہے لیکن سڑکوں کو ہفتوں بلاک کرنے کی روایت ختم کر دی گئی ہے، اور جو لوگ ہتھیار ڈال کر واپس آنا چاہیں ان کے لیے مذاکرات کے دروازے کھلے ہیں۔
انہوں نے موسیٰ خیل کے اس المناک واقعے کا ذکر کیا جس میں ایک عورت کے شوہر اور بیٹے کو اس کے سامنے قتل کر دیا گیا اور اس کے پاس سر ڈھانپنے اور لاشوں کو ڈھانپنے کے لیے ایک ہی چادر تھی۔ انہوں نے کہا کہ ریاست مظلوم کے ساتھ کھڑی ہے اور ایسے جرائم کو معمولی بنا کر پیش کرنا ظلم کی انتہا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان ایک ایٹمی قوت ہے اور چند سو مسلح افراد کروڑوں عوام پر اپنا نظریہ مسلط نہیں کر سکتے۔ وزیراعلیٰ نے کانفرنس کے منتظمین، خصوصاً مولانا سید عبدالخبیر آزاد کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ہر ایسے پروگرام میں تعاون کرے گی جو پاکستانیت اور اتحاد کا پیغام دے، چاہے وہ کوئٹہ میں ہو یا صوبے کے دور دراز علاقوں میں، کیونکہ یہ وطن ہمارے بزرگوں کا خواب اور ہمارے ایمان کا حصہ ہے اور یہاں امن ضرور قائم ہوگا۔













Leave a Reply