ماہرنگ غفار کا قریبی رشتہ دار دہشتگرد تنظیم بی ایل اے کا رکن نکلا

حال ہی میں سامنے آنے والی معلومات کے مطابق ماہرنگ غفار کا قریبی عزیز، جو اکثر مظاہروں، دھرنوں اور جلسوں کے دوران اس کے ساتھ سیکیورٹی گارڈ کے طور پر دیکھا گیا، ایک پارٹ ٹائم دہشتگرد بھی تھا۔ یہ فرد، جو صہیب لانگو کے نام سے شناخت کیا جاتا ہے، بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) جیسے کالعدم گروہ سے وابستہ تھا اور وقتاً فوقتاً پہاڑوں پر موجود دہشتگرد کیمپوں میں شریک ہوتا رہا۔

بی ایل اے نے اپنی حالیہ پریس ریلیز میں اعتراف کیا ہے کہ صہیب لانگو ان کی تنظیم کا رکن تھا اور گزشتہ روز ایک کارروائی کے دوران مارا گیا۔ یہ اعتراف نہ صرف چونکا دینے والا ہے بلکہ اس سے کئی سوالات بھی جنم لیتے ہیں۔

ماہرنگ غفار کے خاندان کے دیگر افراد کے بارے میں ہمیشہ احتیاط برتی گئی، خاص طور پر اُن کے والد کے ماضی کو کبھی سامنے نہیں لایا گیا۔ تاہم، اب جب کہ صہیب لانگو جیسے قریبی رشتہ دار کے دہشتگرد تنظیم سے تعلقات کی تصدیق خود بی ایل اے نے کر دی ہے، تو یہ جاننا ضروری ہے کہ ان تعلقات کے اثرات کس حد تک پھیلے ہوئے ہیں۔

عوام اور ریاستی ادارے اس وقت ان عناصر پر نگاہ رکھے ہوئے ہیں جو ایک طرف مظلومیت کا لبادہ اوڑھ کر سامنے آتے ہیں اور دوسری طرف ریاست دشمن عناصر سے وابستگی رکھتے ہیں۔ بلوچستان میں امن کی کوششوں کے لیے ضروری ہے کہ ایسے دوہرے کرداروں کو سامنے لایا جائے اور ان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ مستقبل میں شدت پسندی کی جڑیں مزید نہ پھیل سکیں۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *