وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے یومِ قائد کے موقع پر اس عزم کا اعادہ کیا کہ قائداعظم محمد علی جناحؒ نے جس پاکستان کا تصور پیش کیا تھا، آج وہ خواب عملی صورت اختیار کرنے کی سمت گامزن ہے۔ ان کے مطابق یہ صرف ریاستی مؤقف نہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی پاکستان کو ایک مضبوط، باوقار اور ابھرتی ہوئی ریاست کے طور پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔ حالیہ برسوں میں پاکستان نے جن چیلنجز کا سامنا کیا، ان میں افواجِ پاکستان کا کردار قومی تاریخ کا روشن باب بن چکا ہے، جہاں پیشہ ورانہ مہارت، جرات اور مؤثر حکمت عملی کے ذریعے ملکی وقار کا بھرپور دفاع کیا گیا۔
وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ پاکستان کی بڑھتی ہوئی سفارتی سرگرمیاں اور عالمی روابط اس امر کا ثبوت ہیں کہ دنیا عزت ہمیشہ مضبوط اور متحد قوموں کو دیتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بلوچستان حکومت سیکیورٹی اداروں کے ساتھ مل کر امن، ترقی اور عوامی فلاح کے لیے ایک جامع حکمت عملی پر عمل پیرا ہے، جس کے ثمرات عام آدمی تک پہنچانا اولین ترجیح ہے۔ اچھی طرزِ حکمرانی اور قومی مفادات کے تحفظ کو صوبائی پالیسیوں کا محور بنایا جا رہا ہے تاکہ ریاست مزید مستحکم ہو۔
انہوں نے اس امر کی نشاندہی بھی کی کہ پاکستان کو کمزور کرنے کے لیے مختلف سازشیں کی جاتی رہی ہیں، کبھی لسانی بنیادوں پر اور کبھی نظریاتی حملوں کے ذریعے، مگر قوم نے ہر موقع پر یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔ قیامِ پاکستان کے بعد ایک پاکستانی کی شناخت سب سے مقدم ہے، جبکہ علاقائی اور لسانی شناختیں اس کے بعد آتی ہیں۔ یہی اتحاد دشمن کی تمام کوششوں کے سامنے مضبوط ڈھال ثابت ہوا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پاکستان کے نظریاتی تشخص کو کمزور کرنے کی کوششیں بھی ناکام ہوئیں، کیونکہ یہ نظریہ ہی قوم کو ایک دوسرے سے جوڑتا ہے۔ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں عوام، سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے باہمی تعاون سے امن کی بحالی ممکن ہوئی، اور وہ علاقے جو کبھی عدم استحکام کی علامت تھے، آج امن اور استحکام کی مثال بن رہے ہیں۔
آخر میں انہوں نے عوام کے کردار کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے یقین دلایا کہ بلوچستان امن، ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن رہے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ قوم کے اتحاد، اداروں کی قربانیوں اور عوام کے اعتماد سے قائداعظمؒ کے پاکستان کا خواب ضرور شرمندۂ تعبیر ہوگا۔
قائداعظم کے خواب کی تعبیر اور بلوچستان کا عزم













Leave a Reply