زرینہ مری کے نام سے جڑی کہانی دراصل ایک فرضی فسانے سے زیادہ کچھ نہیں، جسے تحقیق کے بغیر پروپیگنڈے کی صورت میں ریاست مخالف بیانیے کے طور پر استعمال کیا گیا۔ دو دہائیوں سے یہ دعویٰ دہرایا جاتا رہا کہ زرینہ ایک اسکول ٹیچر تھیں جنہیں جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا گیا، لیکن آج تک ان کے وجود کا کوئی مستند ثبوت سامنے نہیں آیا۔ محکمہ تعلیم میں بھی ان کے بطور ٹیچر کام کرنے کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں جبکہ کوہلو کے مقامی بزرگ اساتذہ نے بھی واضح کیا ہے کہ ایسی کوئی خاتون ان کے علم میں نہیں۔
مزید یہ کہ اب تک زرینہ مری کے حوالے سے صرف ایک پینٹنگ کو بطور علامتی ثبوت پیش کیا گیا، جس کی بنیاد پر برسوں سے ایک ڈرامہ کھڑا کیا گیا ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ اس بیانیے کو فروغ دینے میں کچھ نامور صحافی بھی شامل رہے ہیں، جنہوں نے بغیر تحقیق اسے عوامی سطح پر پھیلایا۔ حقیقت یہ ہے کہ زرینہ مری کی کہانی کسی حقیقت پر مبنی نہیں بلکہ ایک گمراہ کن مہم کا حصہ ہے، جو مخصوص مقاصد کے لیے تشکیل دی گئی۔













Leave a Reply