بی ایل اے اور مجید بریگیڈ کو دہشت گرد قرار دینا — پاکستان کی بڑی سفارتی کامیابی

امریکا کی جانب سے بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور اس کے ذیلی گروہ مجید بریگیڈ کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرنے کا فیصلہ پاکستان کے لیے ایک اہم سفارتی اور سیکیورٹی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ فیصلہ نہ صرف پاکستان کے دیرینہ مؤقف کی توثیق ہے بلکہ عالمی سطح پر اس بات کا اعتراف بھی ہے کہ ملک میں ہونے والی متعدد خونریز کارروائیوں کے پیچھے یہی گروہ سرگرم تھے۔

پاکستانی حکومت اور عسکری قیادت طویل عرصے سے اس معاملے کو عالمی فورمز پر اٹھاتی رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق، اس ضمن میں وفاقی حکومت اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے امریکی انتظامیہ کے ساتھ براہِ راست رابطے اور بریفنگز کے ذریعے شواہد فراہم کیے جن میں بی ایل اے اور مجید بریگیڈ کی دہشت گردی میں ملوث ہونے کے ناقابلِ تردید ثبوت شامل تھے۔

بی ایل اے اور اس کا خودکش و مسلح ونگ مجید بریگیڈ گزشتہ دو دہائیوں میں درجنوں حملوں کی ذمہ داری قبول کر چکے ہیں۔ ان حملوں میں سیکیورٹی فورسز، غیر ملکی انجینئرز، تعلیمی ادارے اور عام شہری نشانہ بنے۔ ان گروہوں نے اپنے تشدد کو “حقوق” اور “قوم پرستی” کی آڑ میں چھپانے کی کوشش کی، لیکن ان کی کارروائیاں عالمی قوانین اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔

عسکری ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا کا یہ اقدام پاکستان کے لیے ایک اہم موقع ہے کہ وہ ان گروہوں کے مالی نیٹ ورک، بیرونی فنڈنگ اور بین الاقوامی روابط کے خاتمے کے لیے مزید اقدامات کرے۔ اس فیصلے کے بعد ان تنظیموں کے بینک اکاؤنٹس منجمد ہوں گے، عالمی سطح پر ان کی آمدورفت پر پابندیاں لگیں گی اور ہتھیاروں کی ترسیل روکی جا سکے گی۔

وفاقی وزیرِ داخلہ نے اپنے بیان میں کہا کہ “دہشت گردی دہشت گردی ہے، اس کا کوئی مذہب، نسل یا جواز نہیں۔ دنیا کو اس لعنت کے خاتمے کے لیے یکجا ہونا ہوگا۔”

بین الاقوامی مبصرین کے مطابق، یہ فیصلہ اس بات کا اشارہ ہے کہ خطے میں سیکیورٹی کے معاملات پر پاکستان کا مؤقف عالمی سطح پر سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ خطے کے دیگر ممالک اور عالمی طاقتیں دہشت گردی کے خلاف عملی طور پر کس حد تک تعاون کرتی ہیں۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *