بلوچستان میں خواتین کو معاشی طور پر بااختیار بنانے کے لیے ایک بڑے اقدام کے طور پر “ویمن اکنامک امپاورمنٹ انڈومنٹ فنڈ” کا اجراء کیا گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کو ترقی کے عمل میں شامل کیے بغیر پائیدار ترقی ممکن نہیں، اسی مقصد کے تحت یہ فنڈ قائم کیا گیا ہے تاکہ صوبے کی ہزاروں باصلاحیت خواتین اپنے ہنر کو بروئے کار لا کر معاشی طور پر خودمختار ہو سکیں۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی خواتین میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے لیکن وسائل کی کمی ان کی راہ میں رکاوٹ رہی ہے۔ حکومت کا مقصد ہے کہ خواتین کو وہ مواقع فراہم کیے جائیں جن سے وہ اپنے گھروں، شہروں اور دیہاتوں میں مردوں کے ساتھ کھڑے ہو کر معاشرتی کردار ادا کر سکیں۔ وزیر اعلیٰ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ محدود وسائل کے باوجود اس فنڈ کو ایک کامیاب ماڈل بنایا جائے گا اور اس کا حجم بڑھا کر مزید خواتین تک سہولت پہنچائی جائے گی۔
تقریب میں صوبائی مشیر برائے ویمن ڈویلپمنٹ ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی سمیت اراکین اسمبلی اور مختلف سرکاری و نجی اداروں کے نمائندے بھی شریک تھے۔ وزیر اعلیٰ نے اپنے خطاب میں تعلیم کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کی بیٹیوں کو اعلیٰ تعلیم کے مواقع فراہم کرنا وقت کی ضرورت ہے تاکہ وہ ہاورڈ اور آکسفورڈ جیسی جامعات تک رسائی حاصل کر سکیں۔
انہوں نے اس موقع پر خواتین کے سماجی و معاشی کردار کو اجاگر کرنے والے اقدامات کو سراہا اور یقین دہانی کرائی کہ صوبائی حکومت خواتین کی ترقی کے لیے ہر ممکن اقدامات کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ سیلاب متاثرہ علاقوں میں تعمیر ہونے والے گھروں میں خواتین کو زیادہ سے زیادہ مالکانہ حقوق دینے کی کوشش کی جائے گی تاکہ وہ حقیقی معنوں میں خودمختار بن سکیں۔
تقریب سے ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے بھی خطاب کیا اور کہا کہ بلوچستان کی خواتین کسی سے کم نہیں، ضرورت صرف مواقع فراہم کرنے کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے خواتین کے لیے بلا سود قرضوں، کاروباری سہولیات اور فلاحی منصوبوں جیسے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ فنڈ خواتین کی معاشی خودمختاری کی طرف عملی قدم ہے جس کے مثبت اثرات صوبے کی مجموعی ترقی میں نمایاں ہوں گے۔
پروگرام کے اختتام پر خواتین میں فنڈ کے کاغذات تقسیم کیے گئے اور منتظمین کو شیلڈز پیش کی گئیں۔ یہ اقدام نہ صرف خواتین کو اپنے مستقبل سنوارنے کا موقع فراہم کرے گا بلکہ بلوچستان میں معاشی اور سماجی ترقی کے ایک نئے دور کا آغاز بھی ثابت ہوگا۔













Leave a Reply