نصیرآباد ڈویژن میں صوبائی وزیر آبپاشی میر محمد صادق عمرانی نے ممکنہ سیلابی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے دورہ کیا۔ اس موقع پر کمشنر آفس میں ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں متعلقہ محکموں کے افسران اور عوامی نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ ایریگیشن، صحت، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ، لائیو اسٹاک اور دیگر ادارے ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں جبکہ مختلف مقامات پر فلڈ ایمرجنسی کنٹرول رومز قائم کیے گئے ہیں جہاں بھاری مشینری اور عملہ الرٹ رکھا گیا ہے۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر نے کہا کہ 2010 کے تباہ کن سیلاب سے حاصل ہونے والے سبق کو مدنظر رکھتے ہوئے تمام ضروری اقدامات بروقت کرنے ہوں گے تاکہ عوام کے نقصانات کو کم سے کم کیا جا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ہدایت کے مطابق کسی بھی غفلت کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور کمزور پشتوں کو فوری طور پر مضبوط بنانے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سندھ اور بلوچستان کی حکومتیں سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے باہمی رابطے میں ہیں اور خطرے کی صورت میں مشترکہ حکمت عملی اپنائی جائے گی۔ اجلاس میں یہ بھی طے پایا کہ صحت کے مراکز میں سانپ کے کاٹنے، ڈائریا، ملیریا اور زچگی سے متعلقہ تمام انتظامات پہلے سے مکمل رکھے جائیں اور جس ضلع میں ادویات یا ویکسین کی کمی ہے وہاں فوری رپورٹ دی جائے۔
وزیر آبپاشی نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی ایک بڑا چیلنج ہے لیکن پیشگی اقدامات سے ہی نقصانات کو کم کیا جا سکتا ہے۔ حکومت عوام کی جان و مال کے تحفظ کے لیے ہر سطح پر تعاون فراہم کرے گی تاکہ لوگوں کے خدشات اور خوف کو دور کیا جا سکے۔













Leave a Reply