بلوچستان میں مسنگ پرسن کے نام پر ریاست مخالف بیانیہ بے نقاب

بلوچستان میں ایک بار پھر وہ سچ سامنے آ گیا جس کی نشاندہی کئی بار کی جا چکی ہے۔ ماہرنگ غفار کی جانب سے دو سال قبل 3 نومبر 2023 کو جس شخص کو لاپتہ قرار دے کر ریاستی اداروں کے خلاف بھرپور مہم چلائی گئی، وہ دراصل ایک کالعدم تنظیم کا مسلح رکن نکلا۔ 10 جولائی 2025 کو سیکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپ میں مارے جانے والے اس شخص کی ہلاکت کی تصدیق خود بی ایل اے نے کی ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ کسی طور پر لاپتہ شہری نہیں تھا بلکہ ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے والا دہشتگرد تھا۔

اس شخص کی گمشدگی کو بنیاد بنا کر مظاہرے کیے گئے، سڑکیں بند کی گئیں اور ریاست پاکستان کو عالمی سطح پر بدنام کرنے کی کوشش کی گئی۔ لیکن اس واقعے نے یہ حقیقت ایک بار پھر واضح کر دی کہ بلوچستان میں لاپتہ افراد کا مسئلہ نہیں بلکہ مسنگ پرسن کی آڑ میں ریاستی اداروں کو نشانہ بنانے کی منظم کوشش کی جاتی ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں جب کسی لاپتہ قرار دیے گئے فرد کا دہشتگرد تنظیم سے تعلق سامنے آیا ہو۔ ایسے افراد پہاڑوں پر جا کر دہشتگردی میں ملوث ہو جاتے ہیں اور پھر ان کے اہل خانہ سڑکوں پر مظلومیت کا تاثر دے کر ریاست مخالف پروپیگنڈا کرتے ہیں۔ دوسری جانب یہی لوگ بے گناہ شہریوں، مزدوروں اور مسافروں کو شناخت کی بنیاد پر قتل کرتے ہیں اور خود کو مظلوم ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

یہ وقت ہے کہ پاکستانی قوم ان حقائق کو تسلیم کرے اور ایسے عناصر کے بیانیے کا شکار ہونے سے گریز کرے جو ملک دشمن قوتوں کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں۔ ریاستی ادارے اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں اور عوام کو ان کا ساتھ دینا ہوگا تاکہ بلوچستان میں دیرپا امن قائم ہو سکے۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *