بلوچستان کا سالانہ بجٹ حجم کے اعتبار سے تقریباً ایک ہزار ارب روپے پر مشتمل ہے، مگر اس کا بڑا حصہ ترقیاتی کاموں کے بجائے روزمرہ سرکاری اخراجات کی نذر ہو جاتا ہے۔ صوبے میں مالی وسائل کی یہ تقسیم ایک طویل عرصے سے ایک بڑا چیلنج رہی ہے، کیونکہ بجٹ کا قریب اسی فیصد حصہ نان ڈیولپمنٹ مد میں خرچ ہو جاتا ہے۔ اس صورتحال میں صوبے کی ترقی اور عوامی فلاح کے لیے محدود وسائل دستیاب رہ جاتے ہیں۔
نان ڈیولپمنٹ اخراجات میں سب سے زیادہ بوجھ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن کا ہے، جس پر ڈھائی لاکھ کے قریب ملازمین کے باعث خطیر رقم صرف ہوتی ہے۔ اس کے نتیجے میں صوبے کی تقریباً ایک کروڑ تیس لاکھ آبادی کے لیے عملی طور پر صرف دو سو ارب روپے کے قریب رقم بچتی ہے، جو تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر اور دیگر بنیادی شعبوں کے لیے ناکافی سمجھی جاتی ہے۔
اسی غیر متوازن مالی نظام کو درست کرنے کے لیے صوبائی حکومت نے گزشتہ دو برسوں کے دوران سخت اور بعض اوقات غیر مقبول فیصلے کیے۔ کئی ایسے سرکاری دفاتر جو برسوں سے غیر فعال یا غیر مؤثر تھے، انہیں بند کر دیا گیا تاکہ وسائل کا ضیاع روکا جا سکے۔ اس عمل کے تحت بعض محکموں کو مکمل طور پر ختم کیا گیا اور ہزاروں غیر ضروری سرکاری آسامیاں بھی ختم کی گئیں، جن کا عملی فائدہ عوام تک نہیں پہنچ رہا تھا۔
اصلاحات کا ایک اہم پہلو سرکاری نظام میں نظم و ضبط کا قیام بھی رہا۔ غیر حاضر اور کام سے گریزاں سرکاری ملازمین کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی گئی تاکہ سرکاری مشینری کو فعال بنایا جا سکے اور عوامی خدمات کا معیار بہتر ہو۔ یہ اقدامات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ حکومت محض اعلانات نہیں بلکہ عملی سطح پر تبدیلی کی خواہاں ہے۔
اگرچہ اصلاحات کا یہ عمل ابھی اپنے اختتام کو نہیں پہنچا، تاہم حکومت نے واضح کیا ہے کہ دباؤ، احتجاج یا کسی بھی قسم کی بلیک میلنگ عوامی مفاد کے راستے میں رکاوٹ نہیں بننے دی جائے گی۔ صوبے کے عوام کے حقوق اور ان کی فلاح کو ہر صورت ترجیح دی جائے گی، اور مالی و انتظامی اصلاحات کا سفر پوری استقامت کے ساتھ جاری رہے گا۔
بلوچستان میں مالی اصلاحات اور عوامی مفاد کا عزم













Leave a Reply