کوئٹہ میں 28 جولائی کو بلوچستان اسمبلی نے خواتین کو کام کی جگہوں پر ہراسانی سے بچانے کے لیے ایک اہم ترمیمی بل منظور کر لیا۔ اس بل کو صوبے کی خواتین کے لیے ایک مثبت قدم اور اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے بل کی منظوری پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کو محفوظ اور باوقار ماحول فراہم کرنا ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس قانون سے خواتین خود کو زیادہ محفوظ، بااختیار اور اعتماد کے قابل محسوس کریں گی۔
وزیر اعلیٰ نے مشیر ترقی نسواں ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اُن کی محنت کی بدولت یہ قانون ممکن ہو سکا ہے۔ انہوں نے ایوان کے تمام اراکین کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے اس بل کی منظوری میں مثبت کردار ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک مہذب اور ترقی یافتہ معاشرے کی بنیاد تبھی ممکن ہے جب خواتین اور مرد برابری کی سطح پر مل کر کام کریں۔ یہ قانون صوبے میں خواتین کے حقوق کے فروغ اور ایک محفوظ معاشرتی ماحول کے قیام کی جانب اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔













Leave a Reply